- یہ جرگہ تمام جرگوں کا تسلسل شمار کیا گیا
- یہ جرگہ تمام پشتون قوم کا جرگہ تصور کیا گیا
- اس جرگے کی مہمان نوازی کرنے پر کوکی خیل قوم کو سلام پیش کیا جاتا ہے
- اس جگہ پر ایک پشتون قوم کا ایک دفتر بنے گا
- یہ جرگہ مندرجہ ذیل باتوں پر متفق ہوئے
۔ فوج اور دہشت گرد تنظیموں کو دو مہینوں کا وقت دیا گیا کہ ہمارے علاقے سے نکل جائے
۔ اگر دو مہینے میں یہ نہ نکلے تو پھر جرگہ فیصلہ کرے گی کہ ہم ان قوتوں کو کس طرح نکالیں گے
۔ اس پختون زمین پر جو وسائل ہیں اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا ،
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ شہیدوں اور زمین پر قبضہ کرانے والوں کے خلاف وکیلوں کی ایک ٹیم تیار کی جائے گی
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ بجلی قبائلی علاقوں میں فری اور دوسرے علاقوں میں 5 روپے یونٹ دے گی ، لوڈ شیڈنگ کی صورت میں تمام صوبوں کے کنکشن کاٹ دئے جائیں گے
۔ جرگہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ڈیورنڈ لائن پر تمام تجارتی راستوں کو پرانے قوانین کے مطابق بحال کیا جائے ۔
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ قبیلوں کے درمیان مسائل کے حل کے لئے کمیٹی آمن کے لئے کام کرے گی
- جرگہ نے فیصلہ کیا کہ آج کے بعد پشتون کسی کو بھتہ نہیں دے گی
۔ جرگے نے فیصلہ کیا کہ تمام آئی ڈی پیز جرگے کے ذریعے واپس کئے جائیں گے
.
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ دوسرے صوبوں میں پختون قوم کے ساتھ جو امتیازی سلوک کرے گی جرگہ اسکے ساتھ کھڑے گی
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ اج کے بعد عمرانی معاہدہ منسوخ ہوگا
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ موجودہ آئین پاکستان کے تحت فوج سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ بجلی منافع فوری طور پر صوبے کے حوالے کیے جائے
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ قدرتی گیس اور پانی پختون کو دے گی
۔ جرگہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ بلاک شناختی کارڈ بحال کرے ورنہ سارے پختون اپنے شناختی کارڈ واپس کرے گی
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ اگر کسی نے اس جرگے کی بنیاد پر کسی کے خلاف کاروائی کی گئی تو جرگہ سخت ردعمل دکھائی گی
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ ایکشن ان ایڈ سول پاؤر قانون کو ختم کیا جائے
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ اگلے اتوار تک تمام مطالبات کے حل کے لئے تمام ڈسٹرکٹ نکلے گی
۔ جرگہ وزیراعلی سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان تمام مطالبات کے لئے اسمبلی سے بل پاس کروائے
۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ یہاں جو شہداء ہوئے انکے خلاف جوڈیشل کمیشن قائم کی جائے
آخر میں تمام شرکاء سے حلف لیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
پشتون جرگہ رپورٹ میں سب سے زیادہ رلا دینے والا جملہ تھا “اٹھتر (7800) سو شادی شدہ لڑکیاں اس بات کے انتظار میں ہیں کہ ہم بیوہ ہو چکی ہیں یا نہیں؟”
ان سات ہزار سے زیادہ سہاگنوں کے مرد ریاستِ پاکستان نے غائب کر رکھے ہیں اور ان کا کچھ پتا نہیں کہ مار دیے گئے ہیں یا کہیں سرکاری عقوبت خانوں میں مقید ہیں
ان غائب کیے جانے والے لوگوں کے گھر والے، ان کی بیویاں، بچے سب ان کے انتظار میں ہیں کہ یہ واپس آ جائیں
بہت سے لوگ تو یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ ان کے اغوا کیے گئے پیارے اگر مار دیے گئے ہیں تو ریاست بتا دے کہ وہ لوگ اب کبھی نہیں آئیں گے
یہی حال، بلکہ اس سے کہیں برا حال، بلوچستان کا ہے، بلوچستان میں ہزاروں سہاگنیں اپنے شوہروں کا، بچے اپنے باپ کا، ماں باپ اپنے بچوں کا انتظار کر رہے ہیں، کئی گھرانے تو دس دس سال سے اس انتظار میں ہیں کہ ان کا جو پیارا ریاستی اداروں نے اٹھایا تھا وہ واپس آ جائے یا کم از کم اس کے مرنے کی خبر دے دی جائے
لوگ یہ تک کہتے ہیں کہ اگر ان کے پیاروں نے کوئی جرم کیا ہے تو جس پاکستانی ریاست نے ان کو اٹھایا ہے وہی پاکستانی ریاست اپنے قانون اور آئین کے مطابق ان اٹھائے جانے والوں کو اپنی عدالتوں میں پیش کر کے ان پرکیس چلائے اور جرم ثابت ہو تو اپنے قانون کے مطابق سزا دے
اور اگر ان کے پیاروں کو ریاست نے ماورائے عدالت و قانون مار دیا ہے تو تب بھی بتا دے کہ مار دیا ہے تاکہ ماؤں کو کچھ تو صبر آئے، سہاگنیں خود کو بیوہ تو کہہ سکیں
خیبر تیرا مشکور ہوں
پختون خواہ کے کونے کونے سے آئے ہوئے مہمانوں کی مہمان نوازی پر آپ سب کا بہت بہت شکریہ
او قدرمندوں
خدای مو بيا بيا راوله په خوشحالې.
په میلمستیا کې مو که څه کمې محسوس کړی وی نو بخښنه کوي
ہمیشہ ہر کلہ او پہ خوشالے راشے۔
خیبر ستاسو کور دہ سر پہ بدل بہ ستاسو عزت کیگی۔ستاسو د راتګ یو نړۍمننه.
Leave a comment