غربت سے دولت تک

By Akhlaq Ahmad Afridi


یہ حقیقت پر مبنی ایک کہانی ہے۔ ایک دفعہ ہمارے علاقے کا ایک آدمی غربت سے تنگ آکر نوکری کی تلاش میں افغانستان کے دارالحکومت کابل چلا گیا۔ چونکہ اس زمانے میں اکثر لوگوں کا نوکری یا روزگار کی تلاش میں افغانستان آنا جانا رہتا تھا، شاید اس لیے کہ وہ علاقے ان کو نزدیک پڑتے تھے۔ کابل پہنچ کر وہ آدمی اگلے دن مزدوروں کی ایک مخصوص جگہ پر جا کر مزدوروں کی ایک قطار میں بیٹھ گیا، اس امید سے کہ کوئی آجائے اور اسے کچھ کام کرانے کے غرض سے اپنے ساتھ لے جائے۔

کچھ لمحے بعد وہاں پر تین آدمی آگئے اور وہ اس آدمی کو کسی کام (مزدوری) کے غرض سے اپنے ساتھ لے گئے۔ وہ ایک دشوار گزار راستے سے ہوتے ہوئے ایک پہاڑی علاقے میں پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر اس آدمی نے لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنا کام شروع کردیا۔ کام کرنے کے دوران اس آدمی کو ان لوگوں کا رویہ ٹھیک نہیں لگا، لیکن اس کے باوجود بھی مجبوری کے تحت اس نے اپنا کام پوری ایمانداری کے ساتھ مکمل کرلیا۔

کام مکمل کرنے کے بعد جب اس آدمی نے ان لوگوں سے اپنے معاوضے کا مطالبہ کیا تو ان لوگوں نے الٹا اس کا مذاق اڑایا اور دھمکی دے کر وہاں سے اسے بھگا دیا۔ وہ بیچارہ انتہائی پریشانی کی حالت میں وہاں سے روانہ ہو گیا۔ شام کا وقت تھا، پہاڑی علاقہ، نہ تو اسے واپسی کے راستے کا کوئی علم تھا اور نہ ہی وہاں اس کا کوئی جاننے والا تھا۔ کچھ دیر پیدل سفر کے بعد اسے وہاں پر ایک بزرگ آدمی ملا۔ اس نے اس بزرگ آدمی کو اپنا سارا واقعہ سنایا، جس پر بزرگ آدمی نے اسے کہا کہ رات ہونے والی ہے اور تم میرے ساتھ آج رات میرے گھر ٹھہر جاؤ۔ چونکہ اس آدمی کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا، اس لیے وہ بزرگ آدمی کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا۔ صبح ہوتے ہی اس بزرگ آدمی نے اسے سیدھے راستے کا بتا کر رخصت کر دیا، اور آخر کار وہ واپس کابل پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے گھر جانے کا ارادہ کر لیا، لیکن وہ اتنا بے بس ہو گیا تھا کہ اس کے پاس اپنے گھر جانے کے لیے کرائے تک کے پیسے بھی نہیں تھے۔ چنانچہ انتہائی مجبوری کے تحت وہ دوبارہ مزدوروں کی اس جگہ جا کر بیٹھ گیا، تاکہ کچھ دن مزدوری کرکے اپنے گھر جانے کے لیے کچھ رقم اکٹھی کر سکے۔

کچھ دیر بعد وہاں پر ایک بزرگ خاتون آئیں اور انہوں نے تمام مزدوروں سے کہا کہ اسے اپنے گھر کے واش روم کی صفائی کے لیے ایک بندہ چاہئے۔ سب مزدور خاموش رہے، چونکہ اس آدمی کے پاس دوسرا کوئی چارہ نہیں تھا، اس لیے اس نے بزرگ خاتون کے ساتھ جانے کے لیے حامی بھر لی اور اس کے ساتھ چلا گیا۔ وہاں وہ آدمی ایک ہفتے تک اس کے گھر میں کام کرتا رہا۔ اس دوران اس نے اپنا کام انتہائی ایمانداری سے سر انجام دیا اور بزرگ خاتون کی بہت خدمت بھی کی۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد اس آدمی نے اپنے گھر جانے کا ارادہ کرکے اس خاتون سے اپنے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ اس خاتون نے اسے اس کے کام کے بدلے پوری رقم ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک خوبصورت پتھر بھی دیا اور کہا، “یہ مجھے میرے خاوند نے شادی کے تحفے میں دیا تھا، لیکن وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے اور میں بھی بوڑھی ہو گئی ہوں، لہذا یہ تم اپنے پاس رکھ لو، ہو سکتا ہے کہ یہ تمھارے کام آجائے۔”

چونکہ اس آدمی کو گھر جانے کی جلدی تھی، اس لیے اس نے خاتون سے رقم وصول کرکے رخصت لی اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس نے وہ پتھر اپنے کمرے میں ایک الماری میں رکھ دیا۔ چونکہ وہ آدمی انتہائی غریب تھا اور اس کے گھر کا گزارا بہت مشکل سے ہوتا تھا، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس آدمی کی نظر اس خوبصورت پتھر پر پڑی تو اس نے دل میں سوچا کہ کیوں نہ اسے بازار میں کسی کو دکھا دوں، ہو سکتا ہے کہ کوئی اسے خرید لے۔ وہ آدمی پتھر لے کر بازار گیا اور وہاں ایک دکاندار کو دکھا دیا۔ دکاندار نے اس سے کہا کہ میں تمہیں اس کے پچاس ہزار روپے دوں گا۔ یہ سن کر وہ آدمی بڑا حیران ہوا اور دل میں سوچا کہ کیوں نہ میں اسے بازار میں کچھ اور دکانداروں کو بھی دکھا دوں۔ دو تین دکانداروں سے بات کرنے کے بعد ایک دکاندار نے اسے دس لاکھ روپے کی پیشکش کی۔

پیشکش سننے کے بعد اس آدمی کو یقین نہیں ہو رہا تھا۔ آخر کار ایک دکاندار نے اسے مشورہ دیا کہ کچھ دنوں بعد پشاور کے پرل کانٹینینٹل (PC) ہوٹل میں قیمتی پتھروں کا ایک شو منعقد ہو رہا ہے، جس میں بیرونِ ملک سے بھی لوگ شرکت کریں گے۔ اس لیے تم وہاں جا کر شو میں شرکت کرو، ہو سکتا ہے کہ تم وہاں اسے مہنگے داموں فروخت کر سکو۔ چنانچہ اس آدمی نے ایسا ہی کیا اور کسی سے قرض لے کر وہاں شو میں شرکت کے لیے چلا گیا۔ جب شو شروع ہوا تو اس آدمی نے بھی ایک چھوٹا سا اسٹال لگا کر وہ پتھر اس میں رکھ دیا اور بیٹھ گیا۔ سارا دن گزر گیا لیکن اس کے پاس کوئی بھی نہیں آیا۔ آدمی پریشانی کے عالم میں بیٹھا لوگوں کو دیکھتا رہا۔ آخر میں ایک بزرگ آدمی، جو شاید امریکہ سے آیا تھا، اپنی بیوی کے ہمراہ اس کے پاس آیا اور اس پتھر کو بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے وہ پتھر اٹھایا اور اپنے بیگ سے ایک چھوٹا سا آلہ نکال کر اس کا معائنہ کیا۔ معائنہ کرنے کے بعد اس نے اپنے ترجمان سے، جو اس کے ساتھ کھڑا تھا، انگریزی زبان میں کچھ کہا۔ ترجمان نے اس آدمی سے مخاطب ہو کر اس پتھر کی قیمت کے بارے میں پوچھا۔ اس آدمی کو چونکہ خود بھی پتھر کی قیمت کا اندازہ نہیں تھا، اس لیے اس نے جواباً کہا کہ اس کی قیمت پچاس لاکھ ہے۔ جب ترجمان نے اس امریکی آدمی کو قیمت بتائی تو اس نے دوبارہ انگریزی زبان میں ترجمان سے کچھ کہا۔ ترجمان نے اس آدمی کو بتایا کہ یہ کہہ رہا ہے کہ میں اس کے پچاس لاکھ نہیں، بلکہ تیس لاکھ دوں گا۔ اس آدمی نے جب یہ بات سنی تو اس نے فوراً کہا کہ ٹھیک ہے۔ اس امریکی آدمی نے اس کو نوٹوں سے بھرا ایک بیگ دے کر وہ پتھر خرید لیا۔

آدمی نے جب بیگ کھولا تو اس میں ڈالر تھے۔ وہ اتنا سادہ آدمی تھا کہ اسے ڈالر کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا، اس لیے اس نے بیگ میں سے ایک نوٹ نکال کر کسی کو دکھایا۔ تب جا کر اسے ڈالر کے بارے میں علم ہوا، اور وہ خوشی سے پاگل ہو رہا تھا جب اسے معلوم ہوا کہ اس امریکی آدمی نے اسے تیس لاکھ روپیوں کی بجائے تیس لاکھ ڈالر دیے تھے۔ بیگ لے کر وہ آدمی سیدھا اپنے گھر پہنچا اور اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس کے بعد وہ ہنسی خوشی اپنی زندگی گزارنے لگا۔

اسے کہتے ہیں راتوں رات امیر ہونا۔

Leave a comment

Blog at WordPress.com.

Up ↑